ہم اپنے اصلی قاتلوں کو نہیں پہچان رہے ہیں ۔ نسیم جاوید

افغانستان میں 1884 کے ھزارہ قتل عام کے پیچھے افغان حکومت اور انگریز سامراج کا ہاتھ تھا جس میں ہزارہ قوم کی باسٹھ فیصد آبادی کو قتل یا ملک بدر کیا گیا جو افغان بادشاہ امیر عبدالرحمان اور انگریزوں کی سازش تھی مگر ہم اس سازش سے بے خبر رہے اور الٹا انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے رہے انگریزوں نے ہزارہ پانئیر بنائی اور تنخواہ دے کر ہزارہ سپاہیوں کو دوسرے اقوام سے لڑاتے رہے جس طرح وہ ہر قوم کے نام پر رجمنٹ بناتے تھے اور ان کو دوسرے اقوام سے لڑاتے تھے “لڑاؤ اور حکومت کرو” یہی انگریز کی پالیسی تھی۔ ہزارہ پانیئر بھی انگریزوں کی لڑائی دنیا کے مختلف خطوں میں لڑتے رہے۔ 1884 کو بھی ہم اپنے اصل قاتلوں کو نہ پہچان سکے اور آج بھی اپنے اصلی قاتلوں کو نہیں پہچان رہے ہیں۔ ہزارہ قوم کو کون مار رہے ہیں اور کیوں مار رہے ہیں ؟ یہ سوال اپنی جگہ جواب طلب ہے۔ بظاہر کوئٹہ میں تمام وارداتوں کی ذمہ داری لشکر جھنگوی قبول کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ لشکرجھنگوی اور دوسری جہادی تنظیمیں پاک فوج کی بنائی ہوئی ہیں اور پاک فوج ان کی پشت پناہی کر رہی ہے اسی لئے طاھر خان اور جلیلہ حیدر “ یہ جو دھشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” کا نعرہ لگاتے ہیں ۔ پچھلے دنوں عمران خان نے بھی اقرار کیا تھا کہ جہادی تنظیمیں فوج کی بنائی ہوئی ہیں۔ رمضان مینگل کا رہا ہونا جو قتل عام کی سنچری بنانے کا سرعام فخریہ اقرار کرتا ہے اور اس کے فورا بعد ہزار گنجی کا واقعہ رونما ہونا بھی بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یاد رہے کہ ھزارہ قوم، طاھر خان ہزارہ یا جلیلہ حیدر صاحبہ پاکستان کے خلاف نہیں اور نہ ہی ملک کے غدار ہیں بلکہ وہ فوج کی غلط پالیسی اور جہادی تنظیموں کی سرپرستی کے خلاف ہیں جس طرح منظور پشتین پشتون تحفظ موومنٹ چلا رہے ہیں اور پشتونوں کی نسل کشی کو پاکستانی ریاست کے غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں اسی طرح طاہر خان ہزارہ اور محترمہ جلیلہ حیدر بھی ریاست کے غلط پالیسیوں کا رونا رو رہے ہیں۔ اگر آج ہم اپنے قاتلوں کی پشت پناہی کرنے والوں کا نام لیکر احتجاج نہیں کریں گے تو ہم تاریخ اور اپنی نئی نسل کے آگے شرمندہ رہیں گے۔
سوال یہ بھی ہے کہ بیس سالوں سے آج تک جتنے ھزارہ قتل ہوئے ہیں جس میں ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے کیا وہ سب پاکستانی ریاست کے خلاف تھے؟ کیا وہ فوج کے خلاف نعرہ لگاتے تھے؟ نہیں۔۔ وہ سب عام پاکستانی اور بے گناہ تھے لیکن پھر بھی قتل ہوئے جب قتل ہی ہونا ہمارے مقدر میں ہے تو پھر ڈرنا کس بات کا ہے کم از کم اپنے قاتلوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو بے نقاب کرنا مردانگی ہے ورنہ اسی طرح نامردانگی اور خوف کے ساتھ مرتے رہنا اور لاشیں اٹھاتے رہنا ہی ہمارے نصیب میں ہوگا اور انٹ شنٹ سیاست دان قومیت یا مذھب کے نام پر ہمارے خون کا سودا کرتے رہیں گے۔
اگر آج پشتون تحفظ موومنٹ، ہزارہ تحفظ موومنٹ اور بلوچ تحفظ موومنٹ ریاست کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے تو ریاست کبھی راہ راست پر نہیں آئے گی اور یہ جہادی تنظیمیں دیدہ دلیری سے مظلوم اور بے گناہ شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگتے رہیں گے اور ریاست آنکھ بند کر کے خواب خرگوش کے مزے لیتے رہیں گے وہ سیاسی لوگ جو اقتدار کے لالچ میں ریاست اور ریاستی اداروں کی خوشنودی کے لئے احتجاج کرنے والوں کو غدار اور ملک دشمن قرار دے رہے ہیں دراصل وہی لوگ اس ملک اور عوام کے اصلی دشمن اور غدار ہیں جو صرف اقتدار کے لئے تمام اقدار کو پامال کرتے ہیں۔ جو غلط کو غلط اور درست کو درست کہنے کی صلاحیت سے عاری ہیں اور جن کا دین و ایمان اقتدار کا حصول بن چکا ہے۔

Facebook Comments