اٹھائیس اپریل 2018 سے 12 اپریل 2019 تک

28 اپریل 2018 کو کوئٹہ کے جمال الدین افغانی روڈ پر نامعلوم کے فائرنگ سے دو بے گناہ دکاندار شہید ہوئے۔ واقع کے خلاف ہزارہ کمیونٹی کے افراد نے بائی پاس روڈ کو بلاک کرکے دھرنہ دیا۔ اُدھر ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ جلیلہ حیدر کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تا دم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئی۔ طاہر خان ہزارہ کی قیادت میں ہزارہ سیاسی کارکنان کی بھوک ہڑتال کی حمایت اور انتظامات سنبھالنے کے بعد بھوک ہڑتالی کیمپ نے دھرنے کی صورت اختیار کیا۔ بھوک ہڑتال کیمپ سے لگنے والی “آرمی چیف کوئٹہ آو” کے نعرے کو بائی پاس دھرنے میں بیٹھے مظاہرین اور علمدار روڈ پر احتجاجی جلسے کے شرکاء نے بھی اپنایا۔ اس احتجاج اور موقف سے ہزارہ کمیونٹی کے اندر سے اگر کسی نے لاتعلقی کا اظہار کیا تو وہ ایم ڈبلیو ایم سے تعلق رکھنے والا اُس وقت کے ہزارہ ایم پی اے سید آغا رضا اور ہماری اکلوتی قوم پرست پارٹی ایچ ڈی پی تھی۔ پانچ دن کے زبردست احتجاج کے نتیجے میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کوئٹہ آئے۔ طاہر خان ہزار اور جلیلہ حیدر نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے آرمی چیف سے ہزارہ قتلِ عام بند کرنے کا وعدہ لیا۔ اگلے دن چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہزارہ قتلِ عام پر ازخود نوٹس لیا جو کئی دن تک میڈیا پر ہونے والے تبصروں اور ٹاک شوز کی زینت بنی۔ تاہم اُسکے بعد اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

ہزارہ کمیونٹی کو سکھ کا سانس لیتے ہوئے ابھی گیارہ مہینے ہی گزرے تھے کہ 12 اپریل 2019 کو ہزار گنجی کے مقام پر ہزارہ سبزی فروشوں پر حملہ ہوا۔ حملہ میں کل 21 افراد شہید ہوئے۔ واقع کے بعد مظاہرین نے ویسٹرن بائی پاس روڈ کو بلاک کرکے دھرنہ دیا۔ کوئٹہ کے ماہِ ابروباران، اپریل میں ،ایک بار پھر دھرنے کی قیادت ہزارہ سیاسی کارکنان کے رہنماء جناب طاہر خان ہزارہ کے ہاتھوں تھا۔ جلیلہ حیدر ایڈوکیٹ نے بھی دھرنے میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈال کر اہم کردار ادا کی ۔ آپ مسلسل دھرنے میں شریک رہتے ہوئے خواتین کو متحرک کرنے کے ساتھ میڈیا پر مظلوموں کی آواز بنتی رہی۔

دھرنے کی قیادت نے سیکیورٹی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دو اہم سوالات اُٹھائیں۔ اول یہ کہ پاکستان کی سیکیورٹی ادارے اپنی ناکامی کا اعلان کرئے تاکہ قیام امن کے لیے اہلیانِ بلوچستان اقوامِ عالم سے امن فوج طلب کرسکے۔ دوئم، اگر دُنیا کی آٹھویں ایٹمی طاقت اپنی ناکامی تسلیم نہیں کرتی تو اس قتلِ عام میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کرئے۔ اس حقیقت پسندانہ موقف سے گریزاں، بلوچستان حکومت کی اتحادی جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ دھرنے میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا ملک دُشمن کہہ ڈالا۔ ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ہیچ ڈی پی کے بیانیے سے سوال اُٹھتا ہے کہ کیا سیکیورٹی اداروں پر تنقید کرنا ملک دُشمنی کے زمرے میں آتا ہے؟ کیا فوج ہی ریاست ہوتی ہے؟ نہیں ، ایسا بلکل بھی نہیں۔ عوام ٹیکسز پر پلنے والی دیگر اداروں کی طرح فوج بھی ریاست کا ایک ذیلی ادارہ ہوتا ہے۔ جو اپنی کارکردگی کے لیے حکومت اور عوام کو جوابدہ ہوتا ہے۔ مگر افسوس یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے۔ ریاست کی مقدس ترین دستاویز “آئین” کو پامال کرنے والوں کو گارڈ آف آنر دیا جاتا ہے۔ جبکہ آئین و قانون کی بات کرنے والوں کو ملک دُشمن اور غدار جیسے القابات سے نوازے جاتے ہیں۔ آئین کی بے توقیری کی حد یہ ہے کہ ایک غیر ملکی انتخابات میں حصہ لیتا ہے اور مہاجہر ثابت ہونے کے بعد بھی سزا سے مبرا ٹھہرتے ہوئے ایک پارٹی کا سیکریڑی جنرل بنتا ہے۔

ہزار گنجی واقعے کے نتیجے میں دیے گئے دھرنے نے جہاں اپنو ں روپ میں چھپے استحصالی قوتوں کے آلہ کاروں کا بے نقاب کیا وہاں اس سے مظلوم ہزارہ کمیونٹی کا اصل پیغام دُنیا کو پہنچا جس سے نام نہاد فرقہ واریت، انتہاپسندی، شدت پسندی اور پراکسی وار کی سازشی تھیوریاں زمین بوس ہوئی۔ ملک کے طول و عرض سے تمام سیاسی، مذہبی، قوم پرست اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے دھرنے سے اظہارِ یکجہتی کیے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پاراچنار جیسے شہروں کے علاوہ عالمی سطح لندن اور آسٹریلیاء میں بائی پاس دھرنے سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر مظاہرئے ہوئے۔ یوں ایک حقیقی عوامی اتحاد کا مظہر دیکھنے کو ملا۔

یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ہماری مقتدر قوتوں نے قومی سوال، خارجہ پالیسی، جمہوریت اور معاشی پیش رفت جیسے معاملات پر کبھی بھی سنجیدگی نہیں دکھا یاہے۔ جمہوریت اُنکے گھر کی لونڈی رہی ہے۔ جب بھی چاہا جمہوری حکومت کا دھڑن تختہ کرکے مارشل لا نافذ کیا۔ ملک کی تاریخ میں جمہوریت سے زیادہ آمریت رہی ہے۔ قومی سوال تو روز اول سے ہی انتہائی اہمیت طلب مسئلہ رہا ہے مگر ہر اُبھرنے والی قومی تحریک کوالشمس اور البدر جیسی تنظمیں بناکر طاقت کے زور پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ قومی حقوق کی بات کرنے والوں کو غدار اور ملک دُشمن جیسے القابات دے کر سازشی تھوریز اور کیسز کا سہارا لیا جاتا رہا۔ اپنی کوتائیوں اور خامیوں پر غور کرکے اپنی اصلاح کے بجائے اگرتلہ اور حیدر آباد سازش جیسے کیسز کا ڈرامہ رچایا کر خود فریبی کی جاتی رہی ہے ۔ اس خود فریبی کے نتیجے میں ہم نے آدھا ملک گنوا دیا۔ ہمسایہ مملک سے سرحدوں کے تنازعہ کا سفارتی حل نکالنے کے بجائے ہماری مقتدر قوتوں نے ہمیشہ جنگی وژن اور سامراجی پالیسی کی پیروی کے ساتھ مسئلے کو حل کرنے کو کوشش کی ہے۔ افغان ثور انقلاب کے خلاف امریکی سامراج کا اتحادی بن کر ڈیورنڈ لائن کے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے حکمرانوں نےملک کے لیے مسائل کا پہاڑ کھڑا کیا۔

آج بھی حکمران اسی روش سے ملکی معاملات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ بدترین احساسِ محرومی کے شکار بلوچستان میں ایک دہائی سے زبردست شورش چل رہی ہے۔ جاری بحران کا سیاسی گفت و شنید اور بلوچ قوم کی قومی حقوق کی ضمانت کے علاوہ کوئی پائیدار حل نہیں ہے۔ حکمران کسی بھی صورت اسپر عمل کرنے کو راضی نہیں اور معاملے کا حل بندوق سے ڈھونڈنے کی سعی لاحاصل میں لگا ہوا ہے۔ ہر آنے والے دن کے ساتھ مسنگ پرسنز کی تعدار میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جو عالمی توجہ کا باعث بنتا جارہا ہے۔ دُنیا کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ بلوچستان میں آزادی کی کوئی تحریک وجود نہیں رکھتی ہزارہ کمیونٹی کو قربانی کا بکرا بنا کر فرقہ واریت کا تاثر دیا جارہا ہے جو اب راز نہیں رہا۔ بلوچستان کا بچہ بچہ اس مکروہ حکمت عملی کی حقیقت سے باخبر ہو چکا ہے۔

اس سارے معاملے میں ایک اور پیش رفت ایران کے حوالے سے ہوا ہے۔ امریکی سامراج اور اُنکے حواری ایران کا گھیراو کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلہ میں ایران پر اقتصادی پابندیاں لگا کر اُنکے تیل کی تجارت کو صفر پر لانا مقصود ہے۔ جسکے بعد ایران پر حملے کا امکان ہے۔ میدان جنگ بلوچستان بنتا نظر آرہا ہے۔ بی این پی مینگل کے قائد سردار اختر جان مینگل نے وائس آف امریکہ کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں اس خدشے کا واضح اظہار کیا۔ 12 اپریل 2019 کا ہزار گنجی واقع اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بائی پاس کے حالیہ دھرنے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے، سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے بھی یہی باتیں کہیں۔ اورماڈہ واقع کے بعد ایران پر پاکستان کے لگائے گئے الزامات کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا از حد لازمی ہے۔

12 اپریل 2019 کا ہزار گنجی واقع کی ذمہ داری داعش نے قبول کیا ہے۔ شام اور عراق کی خانہ جنگی سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگیا ہےکہ داعش امریکہ کا تیار کردہ دہشتگرد تنظیم ہے جسکی کاروائیاں کسی بھی خطے میں امریکی سامراج کی مداخلت کا جواز فراہم کرتا ہے۔ شام اور عراق میں شکست کے بعد اس دہشتگرد سامراجی تنظیم کو افغانستان منتقل کیا گیا ہے۔ اس راز پر سے کچھ مہینے پہلے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے پردہ اُٹھایا جو سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوا۔ ڈان نیوز کے پروگرام “ذرا ہٹ کے” میں بھی اس حوالے سے چشم کشاہ تبصرہ ہوا جو یوٹیوب پر براوزکرکے تلاش کی جاسکتی ہے۔ پس جنگ کی ایک نئی بادل افغانستان اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان پر منڈلارہی ہے۔ ہماری مقتدر قوتیں ثور انقلاب کے خلاف جنگ میں حصہ دار بننے کی طرز پر ایک نئی غلطی کا مرتکب ہو رہے ہیں جس سے حاصل تو کچھ نہیں ہوسکے گاالبتہ کھونے کو بہت کچھ کھویا جاسکتا ہے۔

دلاور علی

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.