اوریا مقبول جان کے دس منٹ کی ویڈیو اور حقائق – خاقان چنگیزی

جو نہیں جانتے ان کے لئے مختصرترین تعارف۔ جناب اوریا مقبول جان، ایک سابق درجہ بیستم کے سرکاری ملازم، ایک دو ڈراموں میں ناپسند قسم کی اداکاری کے جوہر دکھانے والے ایک ناکام ڈرامہ اداکار، حسب روایت ملازمت کے دوران عیش و طرب کے دلدادہ، جنسیات جیسے اہم موضوع پر 48 طریقوں سے واقفیت اور نوکری سے فراغت پر مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دانشوری ،کالم نگاری، ماہر اسلامیات، تاریخ، سیاست، فلسفہ، ادبیات وغیرہ کے میدان میں نام کمانے کی تگ و دو میں آج تک شب و روز مصروف ۔ موصوف نے حال میں سوشل میڈیا پر دس منٹ تیئیس سیکنڈ کی ایک ویڈیو اپ لوڈ کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ویڈیو اوریامقبول جان نے اپ لوڈ کیاہے، اس کا ممکنہ ماحصل کیا ہوسکتا ہے؟ یقینا عوام میں مزید کنفیوژن اور ذہنی پراگندی پیدا کرنے کی ایک عیارانہ کوشش۔
یہاں امریکہ میں ویڈیو دیکھنے کے بعد پتہ چلا کہ موصوف بڑھاپے میں سٹیاگیاہے۔ سرکاری نوکری کے دوران بلوچستان کے جملہ نعمتوں سے خوب سرفراز ہونے کے ساتھ ساتھ ریٹائرمنٹ میں خود کو بلوچستانیات کا ماہر پیش کرنا بظاہر زیادہ غیر معقول نہیں لگتا ہے۔ حالانکہ تین دہائی قبل اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ موصوف کی دلیری، ایمانداری، سچائی، کردار کی پاکیزگی پربات کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ کیونکہ وہ سب جانتے ہیں جنہوں نے کبھی بلوچستان میں ملازمت کی ہو۔
موصوف نے اپنے ویڈیومیں ہزارہ قوم کے کئی دہائیوں کے مسئلے کو ایک مخصوص زاویہ ¿ نظرسے دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ مخصوص زاویہ ¿ نگاہ کیا ہے؟ پاکستانیوں پرخوب واضح ہے ۔ جب سے پاکستان میں اس مخصوص زاویہ نگاہ کو عامر مطلق مرد مومن مرد حق ضیاءالحق کے توسط سے عام کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس دن سے پاکستان امن کو ترسنے لگاہے۔ کامران خان کے بقول سالانہ چودہ کروڑ ڈالر سے زیادہ اس پنیری کی پرورش پر لگائی جارہی ہے۔ ان ٹکڑوں پر زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ پل رہے ہیں، جن میں ہردل عزیز عریاں مقبول جان صاحب بھی شامل ہے۔ آپ کے زریں خیالات سب سے زیادہ اُن لوگوں سے ملتی ہے جن کے ہاتھوں پشاورمیں معصوم بچوں کو ان کی درسگاہ میں شہید کیاگیا، جو پاکستانی دفاعی اداروں کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کرتے رہے، جو پاکستانی عوام کو ان کی عبادت گاہوں، بازاروں، پارکوں الغرض کہیں بھی امن سے جینے نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب طالبان نے نوازشریف کی حکومت سے مذاکرات کی پیشکش کوقبول کیا تو ان اسمائے مبارک میں ایک نام اوریامقبول جان کا بھی تھا۔ محترم ایازامیرکے بقول جب سے ضیائی اسلام پاکستان میں پھیلا ہے تب سے منافقت کا بازار دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے۔ حجاج کی تعداد ہماری سب سے زیادہ، مگر منافقت، دروغ گوئی ہر قسم کے دونمبری کام میں ہمارا دنیا میں کوئی ثانی نہیں۔
اوریامقبول جان کے دس منٹ تیئیس سیکنڈ کے ویڈیو سے عیاں ہے کہ موصوف کی یادداشت کے ساتھ ساتھ عقل نے بھی ساتھ چھوڑدیاہے۔ اسی لئے کسی ایک واقعہ کو بھی اس کے درست سیاق و سباق میں بیان کرنے سے قاصر نظرآتاہے۔ مثال کے طورپریہ کہ ہزارہ قوم کوئٹہ میں صرف قائدآباد کے علاقہ میں آبادتھے۔ یہ کہ جنرل محمدموسیٰ خان اپنے والدکے ساتھ افغانستان سے بوستا ن کے راستے آتے ہوئے بوستان کے مقام پر قلی کے طورپرکام کیا۔ یہ کہ 5 جولائی1985 ء میں کوئی حاضر سروس کیپٹن اسلامی انقلاب برپاکرناچاہتا تھا۔ یہ کہ سب سے پہلے اے سی کوئٹہ کاڈرئیورماراگیا۔ یہ کہ ہزاروں نے لڑکیوں کے سکول پر قبضہ کیا۔ یہ کہ 2004 میں پورے لیاقت بازار کو آگ لگادی۔ یہ کہ ہزاروں کو گورنرمغربی پاکستان نے لوکل سرٹیفیکیٹس دئیے۔ یہ کہ کوئٹہ کے مغربی علاقے میں گورنربلوچستان جنرل محمدموسیٰ خان نے ہزارہ قبائل کو آباد کیا۔ یہ کہ مہر آباد میں انقلاب کے پرچم لہرائے گئے۔ یہ کہ شہرمیں برادر اقوام کے مابین سخت دشمنی کی فضا پیدا کی گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہزارہ قوم وطن عزیز پاکستا ن کے وجود میں آنے سے ڈیڑھ صدی قبل بلوچستان میں آباد ہونا شروع ہوئے تھے۔ تاریخی اعتبار سے ہزارہ قوم کے اجداد امیرذوالنون ارغون وغیرہ نے تو صوبہ سندھ کاعلاقہ ٹھٹھہ تک حکمرانی کی ہے۔ مکلی کے شہرہ آفاق قبرستان میں آج بھی ہزارہ قوم کے آباءو اجداد مدفن ہیں۔ 1888-1891ء کے دوران اُس زمانے کے کوجک ٹنل کی تعمیر میں چالیس فیصد ہزارہ مزدوروں اور کاریگروں نے حصہ لیاتھا۔ کوئٹہ سبی اور بولان کے ٹنل کی تعمیر میں بھی انہی جوانوں نے اپنا خون پسینہ بہایا۔ متحدہ ہندوستان میں 106 ہزارہ پانئیرز کے نام سے1904 – 1933 خدمات انجام دئیے۔ پہلی جنگ عظیم میں پوری دنیا کے نشانہ بازوں میں طلائی تمغے جیتے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران سینکڑوں ہزارہ فوجی جنگجو فرانس، شام، برما اور دیگرعلاقوں میں جنگیں لڑیں اور شہید ہوئے۔ جب پاکستان کی تحریک آزادی چلی تو بلوچستان سے تحریک آزادی کا نامور سپوت قاضی محمدعیسیٰ خان کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا۔ ان کے علاوہ سرداریزدان بخش جوجنرل محمدموسیٰ خان کے والدگرامی تھے، وہ خود اور ان کے دو فرزندارسردارعیسیٰ خان اور سردار اسحاق خان نے پاکستان مسلم لیگ کا پرچم تھامے رکھا۔ وطن عزیز کی آزادی کے بعد ہزارہ قوم کی کثیر تعداد کوئٹہ میں آباد تھی مگر اس کے علاوہ مچھ بولان، ڈگاری، خضدار، ژوب، لورالائی، دکی، ہرنائی ،سنجاوی، سبی، سانگڑھ، حیدرآباد، کراچی اور پشاور کے علاوہ ضلع ہزارہ میں بھی آباد تھے۔ جنرل محمدموسیٰ خان کی پیدائش کوئٹہ میں 1908 کو ہوئی تھی جبکہ ان کے والدگرامی پچاس سال قبل ہجرت کرکے آئے تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں اپنی محنت اور جان فشانی کا ذکر یوں کیا ہے کہ جب وہ فوج میں جوان بھرتی ہوئے تو ہرطرح کے کام کرتے تھے جو ایک فوجی کے لئے لازم ہوتا ہے۔ اس میں کوئلے سے بھرے تیلے اُٹھانا، کدائی کرنا اور مٹی بھرنا وغیرہ شامل تھا۔ کس قدرافسوس کی بات ہے کہ اوریا مقبول جان کو پوری کتاب میں سے صرف وہ حصہ یاد رہا جس میں نفسیاتی طورپراس کی اپنی ذہنی تسکین پوشیدہ ہے۔ 5 جولائی1985 کوکوئی واقعہ پیش نہیں آیاتھا۔ بلکہ جنرل ضیاءالحق کے ذکواة اور عشر کے قانون کے خلاف پورے پاکستان میں مفتی جعفرحسین مرحوم کے زیرسرپرستی 6 جولائی 1985 کو جلوس نکالے جانے تھے۔ باقی جگہوں میں امن و امان رہا، مگر کوئٹہ میں علاقہ پولیس کو ریاست نے عوامی احتجاج کو روکنے کے لئے استعمال میں لایا۔ ہرچند کہ اس جلوس میں ہزارہ قوم شاید2 فیصد بھی شریک نہ تھے، کیونکہ جلوس نکالنے والوں کی تعداد پوری قوم کے مقابلے میں شاید ایک فیصد بھی نہیں بنتی تھی، مگر ضیائی عینکوں سے دیکھنے والے دانشور آج تک اس قلیل تعداد کو پوری قوم پر مسلط کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اس واقعہ میںکوئی حاضر سروس یا ریٹائرڈکیپٹن مہدی شامل نہ تھا، بلکہ سچی بات تویہ ہے کہ ایک انجنئیرمحمدہادی کے نام سے دو سال آرمی کورس کرنے کے بعد فارغ ہوئے تھے اور لڑائی چڑنے کے بعد اپنے عزیز کو ڈھونڈنے نکلے کہ گولی کا نشانہ بنے۔ بعد میں اس کو عجب رنگ دیا گیا کہ وہ اسلامی بغاوت یا انقلاب کے چکرمیں تھے جو سراسر جھوٹ اور من گھڑت بات تھی۔ سب سے پہلے فائر پولیس والوں کی طرف سے ہی ہوئی اور اس میں ایک بنگش ماراگیاتھا۔ ہزارہ قوم کے افراد پولیس کے آنسو گیس سے بچاو کی خاطر طالبات کو اسکول سے نکال لئے، جن میں سے کئی طالبات بے ہوش ہوگئی تھیں۔ 2004 ء میں لیاقت بازار میں ایک خودکش حملے کے نتیجے میں اور پھراے ٹی ایف کے فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم67 بے گناہ ماتمی شہید ہوئے، پورے لیاقت بازار میں ایک دکان کو بھی نہیں جلایاگیا، بلکہ کچھ شرپسند اور چوراچکے افراد نے نقاب اوڑھ کر پرنس روڈ پر چند دکانوں کو آگ لگادی تھی جس سے ایک فرد کو بھی نقصان نہیں ہوا۔ جبکہ پرنس روڈ پر واقع شہرکی سب سے بڑی دکان احمدسٹور جو ہزارہ قبیلے کے فردکا تھا وہ بھی جل کر راک ہوگئی۔ ہزارہ قوم کو1952 ء میں سٹیزن شپ سرٹیفیکیٹ جاری کیاگیاتھا، جب جنرل محمدموسیٰ صاحب برگیڈئیر تھے۔ دس برس بعد19 فروری1962 کو ہزارہ قوم سمیت پشتونوں کے کم از کم بیس پچیس قبائل کوایک ہی نوٹیفیکیشن کے ذریعے لوکل کادرجہ دے دیاگیا تھا، جب جنرل محمدموسیٰ صاحب گورنر مغربی پاکستان نہیں بنے تھے۔ کوئٹہ کے مغربی علاقے میں ہزارہ قوم کو آباد کرنے والے پہلے فردکانام سید باقر رضوی تھا جس نے1977 میں وہاں اپنے لئے زمین خریدکرمکان بنایا۔ اس علاقے کا نام پہلے باقرآباد تھا۔ بعد میں مرحوم میرغوث بخش بزنجو کے کہنے پر سیدباقر رضوی نے ’باقرآباد‘ کا نام تبدیل کرکے ’ہزارہ ٹاو ن‘ رکھ دیا۔ اس میں گورنربلوچستان جناب جنرل محمدموسیٰ خان کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔ میں خداکو حاضر و ناظرجان کرکہتاہوں کہ مہرآباد میں کبھی بھی کسی قسم کاانقلاب یا بغاوت کا پرچم بلند نہیں کیا گیا ہے۔ نہ جانے اوریا مقبول جان کی مذہبی دید نے کہاں سے وہ پرچم دیکھ لیا۔ اوریامقبول کو یہ بھی درست یاد نہیں کہ وہ کب اور کہاں اسسٹنٹ کمشنر(انڈرٹریننگ) تھے، وہ خود کو1985 ءمیں اے سی انڈرٹریننگ بتاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 1985ءمیں جناب محمدعلی خان اسسٹنٹ کمشنرانڈرٹریننگ تھے جن کا تعلق گیارہویں سی ٹی پی سے ہے۔ سب سے آخری بات یہ کہ کوئٹہ شہرکے اندرآج بھی بلوچ، پشتون ، ہزارہ، پنجابی، سندھی سرائیکی وغیرہ کے مابین مثالی تعلقات قائم ہے۔ ہاں: البتہ جنرل ضیاء کے باقیات کی کوششیں جاری ہیں کہ شہراور ملک کو فرقوں اور مذاہب کے خانوں میں تقسیم کیاجائے، جو اس ویڈیو سے بھی عیاں ہے۔
افسوس صد افسوس کہ مادر وطن کے دفاع، شعبہ سپورٹس، تعلیم، صحت، لٹریچر، محنت مزدوری، شہر، صوبہ اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ہزارہ قوم کی خدمات اور انہو ں نے کتنا حصہ لیا اس پر موصوف نے ایک جملہ بھی نہیں کہا۔ اوریامقبول جان کے ماضی سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ اب جب وہ خود کو مذہبی بناکرپیش کرتا ہے تو کم از کم ایک حقیقی مذہب کا پیروکار کبھی بھی ظلم و ستم اور جھوٹ پرمبنی باتوں کی ویڈیو بناکر اسے وائرل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اس سے تو صاف ظاہرہے کہ پورے پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے اس یہ کام بذات خود ایک بدترین گناہ ہے۔ 

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.