بلوچستان کے عوام کی محرومیاں ۔ ذمہ دار کون؟

پاکستان میں جب بھی قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم کی کہیں بات کی جاتی ہے توایسی باتیں کرنے والے اور اِس موضوع پرباتیں سننے والوں کے ذہنوں میں فوراً بلوچستان کے وسیع رقبے پرآباد پاکستان میں آبادی کے تناسب سے یعنی کم آبادی والے صوبے کے عوام یعنی’بلوچی عوام’کی زبوں حال سماجی انصافی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں’یوں ایک اہم اورانتہائی حساس موضوع کا رخ منٹوں سیکنڈوں میں’لسانیت پرستی’ پر مبنی صوبائی عصبیت کی نفرتوں کی جانب مڑ جاتا ہے یہ سوچے سمجھے بغیرکہ پاکستان کے اب تک جتنے بھی پانچ سالہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پیش کیئے جاچکے ہیں’اْن بجٹوں میں ہر عہد کی وفاقی حکومتوں نے بلوچستان میں انسانی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ہمیشہ خطیررقوم مختص کیں مگریہاں سوال پیدا ہوتا کہ آخر بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ ترین علاقوں کیلئے رکھی گئی وہ’خطیررقوم’ کہیں خرچ ہوئیں یا نہیں؟ اوراِس کا ذمہ دار کون ہے؟کوئی ایک دورایسا بتادیاجائے؟ جب بلوچستان میں ناموراورممتازبلوچی سرداروں کے علاوہ وہاں کسی اور پاکستانی صوبے سے تعلق رکھنے والے کسی غیربلوچی رہنما نے حکومت کی ہو صوبائی حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی ہو؟سوائے ضیاء4 حکومت کے عہدکو چھوڑکے’بھٹودورمیں نواب اکبرخان بگٹی نے ایک عرصہ تک بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کا قلمدان سنبھالے رکھا’ایک سرسری سا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ون یونٹ کے ختم ہونے کے بعد بلوچستان کی زمامِ حکومت سردار عطا اللہ مینگل کیعلاوہ جام غلام  قادرخان ’محمد خان باروزئی’میرظفراللہ خان جمالی ‘خدابخش مری’تاج محمد جمالی ’ذوالفقارخان مگسی’ محمد نصیر خان مینگل’اختر مینگل’میرجان محمد جمالی’ جام محمد یوسف ’نواب اسلم ریئسانی’غوث بخش باروزئی ‘ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ’ثناء اللہ خان زہری اورتادمِ تحریرمیرعبدالقدوس بزنجو بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پرمتمکن ہیں’بین السطوراب تک جن ممتاز بلوچ سرداروں نے خود یا اْن کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ‘شہزادوں’ نے کوئٹہ کے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس مین بیٹھ کرپاکستان کے اِس اہم صوبے کی صوبائی حکومتوں کو چلایا آج محبِ وطن پاکستانی باشعور حلقے اگر بلوچستان میں گزشتہ 70 برسوں کی صاف نظر آنے والی انتہائی پسماندگی کا اور وہاں انسانی سہولتوں کی عدم فراہمی کی بات کرتے ہیں تواِس میں اصل قصوروارکون ہے؟اورکیوں ‘ اَپر’ اور ‘زیریںَ’ بلوچستان کے عوام غیرمتمدن اورانسانی سہولتوں کی عدم فراہمی کے بدترین عہد کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں یہ’سی پیک’ تو کل کی بات ہے جنابِ والہ! بلوچستان میں سڑکیں نہیں بنائی جاسکیں ‘بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی پہنچایا نہیں جاسکا’جہاں صحت کے بنیادی مراکز نام کو بھی دکھائی نہیں دیتے’اب تک جتنے بھی الیکشن ہوئے اْن میں ظاہرہے کہ مقامی بلوچی زورآوروں نے ہی شرکت کی اورالیکشن میں کامیاب ہونے کے بعد کوئی اْن سے یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ اْنہوں نے وفاقی حکومتوں سے ملنے والی خطیر رقوم کہاں خرچ کی ہیں؟کوئی ایک اسکول’ کوئی ایک بنیادی صحت کا مرکز’کوئی اہم شاہراہ’ کوئی پکا راستہ’کوئی ٹیوب ویل کچھ بھی تو بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑی علاقوں میں کسی کو کہیں دکھائی نہیں دیتا اِن بلوچی سرداروں نے جان بوجھ کرعام بلوچوں کو جنہیں اللہ تعالیٰ نےآزاد انسانوں کی طرح جینے کیلئے پیدا کیا تھا بلوچی سرداروں نے اْنہیں اپنا غلام بنائے رکھا اْنہیں انسانی شعوروآگہی کے قریب پھٹکنے تک نہیں دیا سوئٹزرلینڈ کے محل نما ہوٹلوں میں بیٹھا ہوا کوئی براہمداغ خان بگٹی ہو یا افغانستان میں ‘را’ کا مہمان ماما قدیر ہواِن جیسے جتنے بھی نام نہاد رہنما یا قائدین ہیں وہ پاکستان’ پاکستانی افواج ‘اور پاکستان کی سلامتی کیلئے اور بلوچستان جیسے اہم جغرافیائی خطہ کے حامل محل وقوع رکھنے والے علاقہ کے عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ بلوچی عوام میں شعوری بیداری کے ساتھ اْن کی فرداً فرداً ترقی کی راہ میں ‘را’ سی آئی اے’موساد اورافغان خفیہ ایجنسی ‘این ڈی ایس کے اکسانے اور ورغلانے جیسے ہتھکنڈوں اورحربوں میں اِن بلوچی سرداروں نے خود کو بطورایک کٹھ پتلی بنائے رکھا ہے’پاکستان کے باہر بیٹھ کردونوں ہاتھوں سے دولت کمانے میں ہرکسی نے پاکستان دشمنوں سے سبقت لیجانے میں بڑھ بڑھ کر حصہ لیا ہے بلوچستان کے قومی وسائل کا دن رات رونا رونے والوں نے کبھی یہ سوچا کہ بلوچی عوام کی ذہنی تربیت و صلاحیت کس نے کس طرح کرنی تھی؟ یہ بات کہ بلوچستان کے دوردراز اور پسماندہ علاقے تو رہے ایک طرف’ کوئٹہ میں حالت یہ ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کا کسی زمانے میں ایک بڑا اہم نام ہوا کرتا تھا جب سے ‘را’ اور دیگرپاکستان دشمن عالمی خفیہ ایجنسیوں نے بلوچستان میں اپنے اپنے خفیہ نیٹ ورک بنائے اور بلوچستان بھر میں فرقہ واریت سے لسانیت پرستی کی آڑ میں جو خونریز اور ہولناک دہشت گردی شروع کی’اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر بلوچی اساتذہ کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو پڑھے لکھے غیر بلوچی ہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ متوسط بلوچ خاندانوں نے بھی وہاں سے ترکِ مکانی کرنا شروع کردیا تعلیم ہی تو وہ بنیادی روشنی ہے جس کی علمی روشنی کی کرنوں سے منور ہونے کے بعد کوئی بھی انسان باآسانی یہ سمجھ سکتا ہے کہ وہ صرف ایک ‘بندہِ خدا’ہے جسے اللہ تعالی نے ایک آزاد انسان کی حیثیت سے دنیا میں بھیجا،اگر وہ علم کی دولت سے مالامال ہے تو وہ کسی بھی سردار کا ‘بندہِ غلام’ بن کر کبھی نہیں رہ سکتا سماجی ومعاشرتی آزادی ہرانسان کا بنیادی حق ہوتا ہے’افسوس متعصب بلوچی سرداروں نے عام بلوچوں کی شعوری فکروں کواپنی مٹھیوں میں مقید رکھا اْن کی معاشی واقتصادی ترقی سیاْنہیں ہمکنارہونے نہیں دیابلوچستان کی سرزمین کی قدرتی اہمیت وافادیت کے پس منظرمیں قدرت نے جو بے پناہ مالی وسائل اْس سرزمین میں پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں وہ ایک نہ ایک دن بلکہ بہت جلد عام بلوچی عوام کو جدید عہد کی انسانی آسائشوں سے یقیناًمستفید کریں گے’تبھی کہیں جاکربلوچستان میں سرداروں کا ظلم وجبر اوراْن کا سماجی استحصال کا یہ نظام ملیامیٹ ہوگا پاکستان چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ’سی پیک’اِسی جانب ایک بڑا اہم قدم ہے’بلوچی عوام وقت کے ساتھ ساتھ اب سمجھنے لگے ہیں اوربلوچی سرداراور اْن کے ظالمانہ سسٹم کے وقتی وفاداروں کی طاقت کا نشہ اب اترنے لگا ہے’وہ شرمندہ شرمندہ سے دنیا بھرمیں کہیں بھی اپنے منہ چھپانے کے لائق نہیں رہے’بلوچی عوام کیلئے یہی روشن اورسنہری موقع ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی پہچان بنتا جارہا ہے دوسری جانب اہم ترین بات یہ کہ عوامی جمہوریہِ چین نے بلوچستان کے عوام کی بڑھتی ہوئی محرومیوں کو پل بھر میں خوشحالی اور کامیابیوں کی منازل سے ہمکنار کرنے میں بہت مضبوطی کے ساتھ پاکستانی عوام کا ہاتھ تھاما ہوا ہے گوادر کی تیز رفتار ترقی پاکستان کے ماتھے کا جھومرہے جس کے ثمرات سے بلوچستان کے عوام ملک کے دیگر علاقوں سے زیادہ مستفید ہونگے۔
عدنان حیدر

Facebook Comments