کوئٹہ بھی آسٹریلیا سے کم نہیں – پہلا حصّہ

آسٹریلیا میں ایسٹر کی تعطیلات اختتام کو پہنچی ہے یہاں ایسٹر کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات کہاں منانی ہے لوگ پہلے سے طے کرتی ہے

ہمارے وقتوں میں تعطیلات کے دوران والدین بچوں کو موچی درزی ٹیوشن مارکیٹ اور مدرسے میں ملا کے پاس بیھجتے تھے کہ کہی بچہ 2 ماہ کی چھٹیوں کے دوران خراب نہ ہو اور استادوں کو یہ فرمائشی کہتے تھے کہ اگر بچے نے کام نہیں کیا یا نہیں پڑھا تو خوب مار کھٹائی کرے

کوئی خفا نہ ہو تو ہمارے معاشرے میں تفریح یا خوشی کے بارے میں بلکل سوچا بھی نہیں جاتا مارے ہاں جو بچہ زیادہ پڑھے زیادہ کام کرے عبادت کرے وہی لائق تحسین ہوتے ہیں

آسٹریلیا میں ہمارے لوگ تفریحی مقام پر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رات گزراتے ہے لیکن شاید کوئٹہ میں یہ بدنامی کا باعث ہو

یہاں لوگ بہت خوش نصیب ہیں کہ تفریح کے تمام مواقع موجود ہیں اچھی خوبصورت اور صاف ستھرا ساحل سمندر ہے پہاڑوں پر پکنک پوائنٹس ہے جس میں پانی بجلی گیس اور باتھ کی سہولت ہوتی ہے
دلکش خوبصورت سینما گھر ہے
بڑے بڑے شاپنگ مال ہے
برفباری دیکھنے پہاڑی علاقے ہیں
چیری فام اور پھولوں کی نمائش کی خوبصورتی کا الگ مذہ ہے چڑیا گھر عجائب گھر دیدنی ہے
مختلف کلچرل فیسٹیول ہوتی ہے
فٹبال ٹینس اور کرکٹ کے انٹرنیشنل مقابلوں کا انعقاد ہوتی ہے
اسکول میں بچوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ انہوں نے تعطیلات کے دوران کہاں کہاں گئے میری بیٹی کو ایک بالو دیا تھا کہ کہی بھی گئے تو بالو کے ساتھ تصویر لو اور تصاویر اپنی ٹیچر کو دکھائے

لیکن کوئٹہ بھی آسٹریلیا سے کم نہیں

یہاں پر کلیک کریں

Facebook Comments