اگر آپ کو پیار ہیں تو – ہزارہ ٹاؤن کی غیر قانونی تعلیمی ادارے

جن جن لوگوں کو علاقے میں موجود 2 نمبر پرائیوٹ اسکولوں اور عطائی ڈاکٹروں سے پیار ہے تو انہیں چاہیے کہ اپنے اپنے بچے اور بچیوں کو گریزن، گرائمر، لاہور اور اسلام آباد کے اسکولوں سے نکال کر ہزارہ ٹاون / مری آباد کوئٹہ کے دو نمبر پرائیوٹ اسکولوں میں داخل کروائیں۔ اپنے اور اپنے بچوں کا علاج بھی علاقے میں موجود ان عطائی ڈاکٹروں سے کرائیں۔ اگر ان دو نمبر اسکولوں اور عطائی ڈاکٹروں سے پیار نہیں ہے تو انکی پشت پناہی چھوڑ دیں اور رہنے دیں کہ ان کے خلاف کاروائی ہوں تاکہ یہ قوم کے نونہالوں کے مستقبل سے نہ کھیلیں۔ اگر صوبائی اور وفاقی حکومت اس سلسلے میں بے بس ہیں تو عوام سے گزارش ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل اور اپنی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے درست فیصلہ کریں اور دو نمبر اسکولوں اور عطائی ڈاکٹروں سے بائیکاٹ کریں تاکہ وہ اس کاروبار سے دلبرداشتہ ہوکر اسے چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ اگر علاقے کے غریب اور نادر لوگوں کو اپنے بچوں کے مستقبل سے پیار ہیں تو انہیں چائیے کہ ان کے خلاف موثر آواز اٹھائیں۔ امیروں کو آپ کے بچوں کے مستقبل سے کوئی غرض نہیں ہے کیونکہ ان کے بچے گریزن، گرائمر، اقراء اور اسلام اور لاہور کے اچھے اچھے اسکولز اور کالجز میں پڑھتے ہیں۔ دیگہ د بلائی ازمہ۔

نوٹ: پرائیوٹ اسکولز میں اچھے اسکولز بھی ہیں جہاں پر تجربہ کار اساتذہ پڑھاتے ہیں۔ میرے اس پوسٹ سے مراد وہ پرائیوٹ اسکولز ہیں جنہیں ان پڑھ اور پاکستان کے تعلیمی نظام سے ناواقف لوگ پاکستانی نصاب والی اسکولیں چلا رہے ہیں جن کی بنیاد صرف اور صرف بزنس ہیں۔

اسحاق چنگیزی

Facebook Comments