دھرنے کا کیا فائدہ ہوا؟

پہلا فائدہ تو یہ ہوا کہ احساس بے حسی اور میتوں کو چُپ چاپ دفنانے کی رسم ختم ہوئی۔

دوسرا اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلنے والوں کا اصلی چہرہ ہے نقاب ہوا، جسے عرصہ دراز سے چھپانے کی کوشش کی جارہی تھی۔

تیسرا فائدہ بلوچستان میں رہنے والے مختلف اقوام و مذاهب کے درمیان کھڑی کی گئی نفرت اور تعصب کی مصنوعی دیوار گرائی گئی، ماسوائے ہمارے قوم پرست ٹولہ کے ہر طبقہ فکر کے لوگ ہزارہ قوم سے اظہار یکجہتی کیلئے دھرنے میں حاضر ہوئے۔

اس دھرنے کا چوتھا فائدہ ہزارہ ھائے جہان کو متحد کرنے کے دعویداروں کا بے نقاب ہونا تھا جنہوں نے ہزارہ قوم کی تاریخ میں نفاق اور شراندازی کی ایک اور واضح مثال قائم کی۔

پانچواں فائدہ یہ ہوا کہ سبھی لوگ یہ جان گئے کہ گزشتہ تمام سالوں میں نااهل صوبائی حکومتوں کے خلاف قوم پرست ٹولہ کے جلسہ جلوس اصلی قاتلوں کی پردہ پوشی کے لئے کی گئی تھی، صوبائی حکومت اگر واقعاً بآختیار ہوتی تو ہمیں وزیر اعلیٰ اور اس کے خصوصی مشیر کا گلا پکڑنا چاہئے تھا۔

چٹھا فائدہ یہ ہوا کہ ہم سب جان گئے کہ۔۔۔
کچھ لوگ اپنی ایک معمولی سیٹ کو بچانے کے لئے کیا سے کیا نہیں کرتے جنہیں دیکھ کر تاریخ کے سبھی میرجعفر بھی شرما جائے، جی دوستوں یہ بات بالکل سچ ہے کہ گھر کا بیدی ہی لنکا ڈھا سکتا ہے۔

یہ بات تو سو فیصد درست ہے کہ اتحاد و اتفاق ہی کامیابی کی اصلی کنجی ہے، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کسی معاشرے میں سبھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے بلکہ یہاں ہر کوئی اپنا رول ادا کڑہا ہوتا ہے۔

کچھ لوگ بھادر، نڈر اور دلیر ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ڈرپوک، چاپلوس اور موقع پرست۔

ہر کوئی اپنی داستان رقم کرتا ہے۔

اور آپ یاد رکھیں کہ۔۔۔
قوموں کی تاریخ میں یہ سب لکھا جائے گا۔
کہ کس نے کون سا کردار ادا کیا؟

کس نے قاتلوں کی جانبداری کی؟
جبکہ کون مقتولوں کا یاور اور حامی رہا؟

محمد علی مہدوی

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.