بے شرم افغان صدر کی دوغلے پالیسی اور ہزارہ کمانڈر علی پور کی رہائی

Ashraf Ghani Afghanistan Hazara Killing

کابل ہرات بامیان مزار شریف کے علاوہ بیرون ملک مقیم ہزاروں کی زبردست احتجاجی مظاہروں کے بعد بالآخر غنی حکومت نے ہزارہ کمانڈر علی پور کو رہا کر دیا 
علی پور گزشتہ کئی ہفتوں سے طالبان کی ہزارہ جات پر پیش قدمی کو روکا ہوا ہے جب اوائل میں طالبان غزنی میں داخل ہوئی تھی تو افغان صدر نے بیان دیا کہ غزنی میں طالبان ایک گروہ کے ساتھ جھڑپیں کر رہی ہے
بعد میں ہزاروں کے ملک گیر احتجاج مظاہروں کے بعد مجبورا اشرف غنی نے افغان سیکورٹی فورسز کو غزنی کی طرف بیھج دیا لیکن کارروائی کرنے کا حکم نہیں دیا
اس پر کابل میں دوبارہ مظاہرہ ہوا اور حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ دہشت گرد گروہ طالبان کے خلاف کاروائی شروع کرے لیکن افغان حکومت دھرا معیار پہ قایم تھی وہ طالبان دہشت گرد گروہ کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں تھے اس دوران کابل کے مظاہرہ کے دوران خودکش دھماکا ہوا جس میں 3 خواتین سمیت 4 افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے اور یوں یہ احتجاج بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ختم ہوئی اور اشرف غنی اپنے دوغلے پالیسی میں کامیاب ہوگئے

Assault on Hazara protesters in Afghanistan

غنی حکومت ایک طرف دہشتگرد طالبان قاتلوں کو امن کے نام پر رہا کردیتی ہے جبکہ دوسری طرف ہزارہ کمانڈر کو طالبان کے خلاف مزاحمت پر گرفتار کرواتا ہے کمانڈر علی پور پر الزامات لگایا کہ وہ غیر قانونی طور پر کئی سو مسلح افراد کا گروپ بنایا ہے اور علاقے میں غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہے۔ حالانکہ ملک کے کسی حصے میں نہ تو انہوں نے طالبانہ کاروائی کی نہ کسی نے آج تک ان کے خلاف کوئی شکایت کی اگر حکومت طالبان کے خلاف کاروائی کرتی تو علی پور کی نوبت نہیں آتی لیکن غنی حکومت 2015 میں اقتدار میں رہتے ہوئے آج تک طالبان کے کسی کمانڈر کو گرفتار کر کے سزا نہیں دی 
اس ملک کے پرامن شہری ہونے کے باوجود ھم کھبی طالبان کے خلاف احتجاج کھبی بامیان میں بجلی کھبی الیکشن کمیشن میں نام اندراج کرنے کھبی مسجدوں میں عبادت کرنے اور کھبی سکول کالجوں میں پڑھنے کے جرم میں ہمارے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے 
اور آج علی پور کی رہائی کیلئے بھی ہمارے خون سے کابل کی سڑکوں کو سرخ رنگ دیا گیا اور دو تین دن کے عوامی مظاہروں کے خوف سے بالآخر علی پور کو رہا کر دیا گیا 
اتوار کے روز اس مظاہرے کے دوران پولیس نے پرامن اور غیر مسلح احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے 6 افراد ہلاک اور کم از کم 20 زخمی ہوئے ۔ جبکہ حکومت مظاہرین پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ انہوں نے 40 پولیس اہلکاروں کو زخمی کر دیا ہے ان زخمیوں کو کون سے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے وہ صرف حکومت جانتی ہے 
جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں لیکن طالبانائزیشن کی بیخ کنی افغانستان کے پرامن حل کیلئے افغانستان کے سیکولر روشن خیال سیاسی تمام عوام کو ایک ہوکر ظلم نا انصافی اور نفرت پر مبنی حکومت اور تنگ نظر نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنی چاہئے
لیاقت علی

Facebook Comments