اطفال اور ہم – رضا حسن

کتاب سے سیکھا ہوا کوئی بھی علم اس وقت تک کار آمد نہیں جب تک کہ اسے عملی زندگی میں استعمال اور ثابت نہ کیا جائے۔
بقول “سیمون دی بواں” یہ زندگی ہی ہے جو سیکھاتی ہے اور محبت ہر چیز سے بڑی معلم ہے۔ یہ تحریر میری ان خیالات کا مرقع ہے جو ایک تویل عرصے سے میری زہنی دنیا میں ہلچل مچاتے رہے ہیں ۔ دامن فطرت میں پرورش پانے والا کوئی بھی انسان محبت کئے بغیر نہیں رہ سکتا؛ ہم اپنے بچوں سے محبت ، الفت تو کرتے ہے لیکن؟

بچے اپنی شناخت کی تو ثیق کرنا اس وقت شروع کرتا ہے جب آئینے میں اپنا عکس پہچانتا ہے، یہ وقت بوتل سے دودھ پینے کے وقت کے ساتھ ہم وقوع ہے، اس کی ” انا” اے گو اس کے منعکس شدہ عکس کے ساتھ اس درجہ بھر پور انداز میں متشابہہ ہوجاتی ہے کہ صرف نمایا کئے جانے پر ہی متشکل ہوتی ہے آئینہ چاھے حقیقتن کم یا زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے یا نہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ بچہ تقریبن چھ ماہ کی عمر سے ہی اپنے والدین کی نقالی کرنے لگتا ہے اور باقی ماندہ چیزیں وہ نقالی سے سیکھتا ہےحالا نکہ اس کے والدین کا خیال یہی ہوتا ہے کہ وہ ان کی گفتگوں سے سیکھ رہا ہے وہ اسے شفقت سکھاتے ہیں اور خود اسے مارتے بھی ہے۔ اسے نرم گفتاری کا درس دیتے ہیں اور خود اس پر چلاتے ہیں اسے روپے اور لالچ سے لا تعلقی کا درس دیتے ہیں اور خود اس کے سامنے اپنی لالچ کو محور بنا کر ایک ایک پائی پر جھگڑتے ہیں اسے دیانتداری سکھاتے ہیں اور اس کے تمام پسندیدہ سوالوں کا جواب جھوٹ سے دیتے ہیں اسے ایمانداری سکھاتے ہیں اور خود اس کے سامنے بے ایمانی کرتے ہیں ہمارے بچے ہماری ہی نقل کرکے ہمیں اپنے کردار کا آئینہ دکھاتے ہیں کہ ہم حقیقت میں کیا ہے بچہ خود ہی فلسفے کی ابتداء اور انتہا ہوتا ہے۔ اس کے جاننے اور بڑھنے کی جبلت میں ما بعد الطبیعات کے تمام راز چھپے ہوتے ہے۔،
یہ تشبیہ لفظ بہ لفظ صحیح ہو گا کہ یہ ایک بہتی ہوی بدبودار ، تلخ اور مسخ شدہ حقیقت ہے کہ ہم نے صرف بچے پیدا کئے ہیں اور اسے الیف سے انسانیت کے بجائے الف سے انار اور امرود کا درس دیتے آرہے ہے۔

Facebook Comments