سرمایہ دارانا نظام اسوقت دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے – سیف علی خاقان

آج غالباً ایک ویڈیو دیکھنے کی توففیق ہوئی جس میں امریکہ افغانستان کے صوبے ہلمند میں ایک طالبان ٹریننگ سینٹر پراپنے ڈرون طیارے MQ-9 Reaper سے ایک حملے کی فوٹیج جاری کرتا ہے۔ جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افغان طالبان ٹریننگ کررہے تھے۔ خیر کچھ دیر غور کرنے کے بعد ایک ہلکی سے مسکراہٹ چہرے پر آئی ایک فکر زہن میں آئی کہ ایک وقت تھا جب امریکہ خود ان جنگجووں کو اسلحہ اور سپورٹ فراہم کرتا تھا روس کے خلاف لیکن کیا وجہ ہے کہ آج خود اپنے پیدا کردہ بچوں کو مارنے پر تُلا ہوا ہے۔
جواب یہ ہے کہ امریکہ کل بھی اپنے مفادات طالبان کے توسط سے پورا کرتا تھا طالبان کو سپورٹ کرکے اور آج بھی امریکہ طالبان کے زریعے اپنے مفادات حاصل کررہا ہے لیکن اس دفعہ طالبان کو مار کے۔ امریکہ کھبی بھی طالبان کو ختم نہیں کریں گا افغانستان سے, کیونکہ وہ چاہتا ہی نہیں ہے طالبان کو نابود کرنا اپنے مفادات کے خاطر۔ یہ واقعہ میں نے اس وجہ سے بیان کی کیونکہ میں ایک چیز واضع کرنا چاہوں گا کہ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کا ہر ملک اپنے مفادات کے نظریے پر قائم ہے خواہ وہ جو بھی ہو, امریکہ اپنے مفادات کے خاطر کسی کو بھی قربان کرسکتا ہے اسے کوئی غرض نہیں کہ افغانستان تباہ ہوتا ہے پاکستان برباد ہوتا ہے شام , عراق اور اردن میں لوگ مرتے ہے اُسے صرف اور صرف اپنے مفادات سے غرض ہے۔
اب چلتے ہے اس بحث کو فردی پیمانے پر لاتے ہے اور اس کے جڑوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ مفادات ہر چیز پر غالب ہے۔ اب اس سسٹم یانظام کی طرف آتے ہے جو فی الوقت اس دنیا میں رائج ہے اس نظام کو سرمایہ دارانہ نظام کہتے ہے یا انگلش میں Capatalism کہتے ہے۔ میں بذات خود اس نظریے کے خلاف تو ہو لیکن پیروکار بھی اسی نظریہ کا ہو انگلش میں اگر کہوں تو I am a capitalist by force not by choice یہ نظام اس قدر مضبوط ہے کہ یہ انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کی پرستش کرے کیونکہ یہ میرا زاتی مشاہداہ ہے کہ دنیا میں آپ کسی بھی راستے پر جانی کی کوشش کرے اگر دولت سے دور جانے کی کوشش کرے گے تو یہ آپ کی بربادی کے لیے کافی ہے۔ در حقیقت ہم سب اس نظام کی ایندھن ہے میرے بہت سے دوست ہے جو بظاہر تو بہت سے دوسرے نظریوں کو ماننے والے خود کو کہتے ہے کوئی کہتا ہے کہ میں سوشلسٹ یا مارکسسٹ یا کوئی کہتا ہے کہ میں کمیونسٹ نظریہ رکھنے والا شخص ہو لیکن اندر سے ہم سب ایک capatalist ہی ہے کیونکہ ہم اس نظام کو ایندھن فراہم کرتے ہے۔ نفسیاتی طورپر اگر اس کو دیکھا جائے تو ہر انسان کے اندر خواہشات ہوا کرتے ہے اور ان خواہشات میں جو سب سے آخری خواہش ہے وہ ہے حاکم بننا یا سادہ الفاظ میں اپنی سپرمیسی قائم کرنا خود کو افضل کرنا دوسرے انسانوں سے ہے۔ دنیا میں دولت اسوقت وہ واحد زریعے ہے جسے لوگ اپنے خواہشات کو پورا کرنے کا زریعہ سمجھتے ہیں ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ امیر بننے میرے وہ دوست جو مذہبی سوچ کے حامل ہے وہ بات تو اسلام کی کرتے ہے لیکن یقین جانیے ان کو اسلام کی الف تک معلوم نہیں انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ اسلام خود ایک نظام ہے ایک ظابطہ حیات ہے جو سراسر اس نظام کے خلاف ہے جو اسوقت رائج العمل ہے دنیا میں۔ میرے نزدیک ایک capatalist کھبی بھی ایک مذہبی شخص نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ دونوں نظام ایک دوسرے کے برخلاف ہے۔
ایک capatalist کو معاشرے سے کوئی غرض نہیں ہوتا ہے لوگ مرتے ہے مرنے دو گھر اجڑتے ہے اجڑنے دوں اُ سے صرف اپنے مفادات سے غرض ہوتا ہے ۔ کچھ ممالک نے اپنے مفادات کے خاطر مذہب کو ایک اندسٹری بنا دیا ہے اب شام اور عراق کی مثال ہی لے لیں ان جنگوں میں امریکہ ,روس , سعودی , ایران اور ترکی کے اسلحہ ساز کمپنیوں کو کس قدر فائدہ ہورہا ہے ہے اور یہ کمپنیاں دراصل گورنمنٹ owned کمپنیز نہیں ہے یہ وہ کمپنیز ہے جو سرمایہ داروں کے شراکت سے بنی ہے ان میں سے ایک کمپنی Lockheed Matrin کی مثال لے لیں ,ایک شخص بنام Malcolm Berko نے اپنے ایک تحریر میں لکھا کہ میں نے 2016 میں Lockheed کمپنی کے 75 شیئرز خریدے جو فی شیئر مجھے 260 ڈالر کی پڑی جو اب 400 ڈالر سے کراس کرچکی ہے۔ دنیا کے جنگ میں ان کمپنیوں کو بے انتہا فائدہ ہے امریکہ خود ان پرائیوٹ کمپنیوں سے اسلحہ خریدتا ہے لوک ہیڈمارٹن امریکہ کے ڈیفنس بجٹ کا 80 فیصد حصہ لیتی ہے ایک اندازے کے مطابق امریکہ اگلے بیس سالوں میں1.4 ٹریلین یا 1400 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری لوک ہیڈ کے ساتھ کرے گی اب آپ اندازہ لگا لے کہ جنگ کس لیے کی جاتی ہے اور فائدہ جنگ سے کس کو پہنچاتا ہے۔
بلوچستان کی مثال اگر لے لیں تو یہاں ایک کمپنی بنام OGDCL ہے جو بلوچستان کی تیل اور گیس کے ذخائر نکالنے والا کمپنی ہے یہ فی الوقت تو سرکاری کمپنی ہے لیکن سرکاری بیوروکریسی اس کو پرائیوٹازیشن کی طرف لے جارہی ہے اس کمپنی کے بیشتر شیئر ہولڈرز خود سرکاری بیوروکیٹس ہوتے ہے۔ اس دنیا میں اس وقت کچھ ایسے لابیز موجود ہے جو اس دنیا کو کنٹرول کرتی ہے۔ ان میں سرفہرست بینکنگ لابی ہے۔ پاکستان تیروی بار آئی ایم ایف کے پاس قرض لینے کے لیے جارہی ہے۔ یاد رہے کے آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانٹری فنڈ) کسی بھی ملک کو اپنے شرائط کے تحت ہی پیسے لون کی صورت میں دیتے ہیں۔ پاکستان کو لون دینے کے شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ پاکستان روپیہ کی قدر میں کمی لائے اور ایسے بہت سے شرائط ہے جو آئی ایم ایفنے دیہے۔
سادہ الفاظ میں اسوقت ہمارے کمیونٹی کے اکثر لوگ آسٹریلیا میں قیام پذیر ہے آسٹریلیا کی مثال اگر لے لیں تو اس وقت آسٹریلیا کا تقریباً ہر فرد آسٹریلیا کے بینکوں سے مقروض ہے جن میں سے 63 فیصد کامن ویلتھ بینک اور باقی دوسرے بینکوں سے ہے۔ اور بھی بہت سے وجوہات ہے جو اس تحریر میں اگر لائے تو تحریر بے حد لمبی ہو جائے گی۔
تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت اسوقت capatalism ہے دنیا میں ہر فرد اس کا ماننے والا ہے بیشک وہ اس کے خلاف خود کو کہے لیکن وہ اسی نظام کے اندر رہ رہا ہے اور پیروگاری بھی اسی نظام کی کررہا ہے۔
تحر یر:- سیف علی خاقان

Facebook Comments