علمدار روڈ – علی ہزارہ

آج شام کو میں علمدار روڈ سرائے نمک کے قریب اپنے ایک پرانے وقت کے دوست سلیمان (وڈیرا) کی دکان میں بیٹھے گفتگو کیساتھ ساتھ علمدار روڈ کی رونق سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ دیکھا طاہر خان ہزارہ صاحب غیر متوقع وہاں تشریف لائے۔ خان صاحب سمیت ایچ ڈی پی اور ہزارہ سیاسی کارکنان کے ممبران کے علاوہ جناب نسیم جاوید سے ملنا اور ہزارہ کشی کے مسائل پر گفتگو کرنا بہت ضروری تھا کیونکہ کوئٹہ سے بتیس سال دور رہ کر سوشل میڈیا پر سیاسی حالات کا جاننا اسے سمجھنا اور پھر کوئ رائے قائم کرنا اصل حقائق سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ بحرحال وقت کی کمی کے باعث خان صاحب سے زیادہ دیر بات نا ہوسکی مگر میں نے ایچ ایس کے کے دفتر آنے کا وعدہ کرکے ان سے رخصت ہوگیا۔
شام کو جب ایچ ایس کے کے دفتر واقع علمدار روڈ گیا تو خان صاحب سمیت ایچ ایس کے کے دوسرے اراکین جن میں لیاقت علی صاحب اور جناب ہادی (باڈی بلڈر) صاحبان تشریف آور تھے۔
لیاقت علی صاحب ایک سُلجھے ہوئے شخصیت کے مالک ہیں جن سے کوئ دو گھنٹے گفتگو کرنے کے بعد میری سوچ کا زاویہ بہت بدل گیا۔ جن مسائل اور نزاکتوں کا ذکر اس محفل میں ہوا انکا ذکر سوشل میڈیا پر ناممکن ہے اور میرے خیال میں شاید یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ یا اکثر لوگ (بشمول میں خود) غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں اور خان صاحب سمیت ایچ ایس کے کے بارے میں غلط رائے اختیار کرتے ہیں۔
میں یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ میرے اس پوسٹ کا مقصد ایچ ایس کے یا خان صاحب کی حمایت کا اعلان قطعی نہیں ہے مگر یہ کہ ان لوگوں کو مشورہ ہے کہ بِلا کچھ سوچے سمجھے کسی شخصیت یا کسی سیاسی پارٹی سمیت خواہ وہ ایچ ڈی پی ہو یا ایچ ایس کے ہو یا ایم ڈبلو ایم کوئ منفی رائے قائم کرنے اور بُرا بھلا کہنے سے پرہیز کریں اور گالی گلوچ سمیت کسی نازیبا الفاظ استعمال کرنے تو سوال نہیں اٹھنا چاہئے۔ 
شکریہ۔
نوٹ۔
ایچ ایس کے دفتر جانے سے پھلے جناب نسیم جاوید صاحب سے بھی کوئ ڈیڑھ گھنٹے اُنکی دکان واقع علمدار روڈ پر ملاقات ہوئ جوکہ کافی سودمند ثابت ہوئ۔

Facebook Comments