طاہر خان ہزارہ اور احمد علی کہزاد کی ملاقات

دونو ہزارہ پارٹیوں کے رہنماؤں کی ملاقات ایک مثبت قدم ہے ان کے نتائج کیا نکلتے ہیں میں کھبی برا نہیں چاہوں گا البتہ میں پر امید ہوں اور اچھے نتائج کی ہی توقع کرتا ہوں فل حال مثبت قدم یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کم از کم غیر سیاسی پوسٹوں اور دل شکنی کمنٹس بازی میں ضرور کمی آئے گی

ہزارہ بلاگ نے اپنے پیچ پر لکھا ہے کہ کیا ایچ ڈی پی کے ساتھ مفاہمت سے طاہر خان کے ساکھ کو نقصان پہنچے گا؟

“میری نظر میں غیر ضروری سوال ہے اس سے دوریاں پیدا ہو سکتی ہے نزدیکیاں نہیں”

اگرچہ ہزاروں میں پہلی مرتبہ ہے کہ ان دو ہزارہ سیاسی پارٹیوں کا آپس میں گفت و شنید ہوئی ہے لیکن پاکستان اور بلوچستان کی سطح پر سیاسی جماعتوں میں گفت و شنید اور مسائل کے حل اور انتخابات میں مشترکہ امیدوار پر اتفاق ہوتی رہتی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ملاقات ان دونو پارٹیوں کو قریب لانے یا ایک دوسرے کو سمجھنے کا اچھا موقع ہے 

یہ انتخابات پچھلے انتخابات سے کچھ اس لئے مختلف ہے کہ اپوزیشن نے ایک نقطہ پر اتفاق کیا ہے

اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کی صورت میں ہمیں بھی یہ موقع ہاتھ سے جانا نہیں دینا چاہیے اگر اپوزیشن کو یہ فرق نہیں پڑتا کہ امیدوار کس جماعت سے ہے تو ہمیں کیوں؟

اب گیند ان دو پارٹیوں کے کوٹ میں ہے اور قوم کو ان سے اچھی امیدیں وابستہ رکھنی چاہیے ہمارے پاس دو سیٹوں کی صورت میں آئندہ لوکل گورنمنٹ اور سینٹ کی انتخابات میں دوسرے پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر ایک مضبوط ہزارہ امیدوار لا سکتے ہے

موگہ آزرہ دشمن دہ کار ندرے خو دون شی دشمن یک دیگہ خو یا  یہ سوچ ہمیں کھبی اپنے مشترکہ مفادات پر یکجا ہونے نہیں دینگے اس سوچ کو ختم کرنا ہوگا

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے 
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

لیاقت علی

Facebook Comments