شہید بابا مزاری اور موجودہ لیڈران

اہلبیت ع سے محبت کی وجہ سے وہ دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے قم ایران گیا اور پھر مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے وہ شہر نجف اشرف چلا گیا ایران اور عراق میں بڑے بڑے مجتہدین سے اور دینی علماء سے تعلیم حاصل کرکے واپس افغانستان آئے افغانستان آنے کے بعد جب شہید بابا نے اپنی قوم کی حالت دیکھی تو اس نے سوچا کہ قوم کے لئے کچھ کرنا ہی ہوگا بابا مزاری شروع سے اپنے قوم کے لئے بہت فکر مند تھے وہ قوم پرست بھی تھے اور مذہب پرست بھی اور اپنی مذہب سے بے پناہ محبت بھی کرتے تھے۔ سیاسی لحاظ سے وہ ایک بہترین سیاستدان کے طور پر افغانستان میں ایک ستارہ کی طرح نمودار ہوا اپنی مذہب اور قوم کی خاطر بابا نے وہاں ایک تنظیم قائم کی جو بعد میں ایک سیاسی پارٹی بھی بن گئی جو کہ حزب وحدت کے نام سے مشہور تھا جو بہت کم وقت میں افغانستان کے تمام علاقوں میں پھیل گیا حزب وحدت کامیابی کے راستے پر تھا اور اس جماعت کی کامیابی مخالف کو اچھی نہیں لگی اور حزب وحدت سے سب کو ڈر تھا آہستہ آہستہ اس جماعت نے حکومت کے کچھ عہدوں کو سنبھالا اس کی اس کامیابی کو مخالف لوگ نہیں دیکھنا چاہتے تھے تو اسی دوران حزب وحدت کے مخالف میں ایک اور تنظیم اتحادی اسلامی بن گیا جس کا سربراہ عبدالرسول سیافی تھا جو کہ وہابی تنظیم تھی اور سعودی عرب اور پاکستان سے انکو سپورٹ مل رہا تھا جسکا مقصد ہزارہ اور شیعہ کو افغانستان کے صف ہستی سے مٹانا تھا اور خیال رہے کہ ایران حزب وحدت کی سپورٹ میں نہیں تھا حالانکہ وہ ایک شیعہ جماعت تھی ایران کے وحدت سے مفاد اور مقاصد نہیں تھے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بابا مزاری اور حزب وحدت نے وہ کچھ کیا جو ابھی تک کسی اور نے نہیں کیا کابل سے واپسی کے بعد سعودی عرب کے پشت پناہی سے اتحادی اسلامی اور وحدت اسلامی کے درمیان کچھ وجوہات کے بنا پر جنگ شروع ہوگئی اور وہ جنگ خانہ جنگی کے طرح ہر گلی اور کوچوں تک پھیل گئی اس جنگ میں شہید عبدالعلی مزاری کا چھوٹا بھائی انکا چچا اور انکا چچا زاد بھائی اور بعد میں انکا والد اور والد کا بھائی وہ بھی شہید ہوگئے لیکن اس کے باوجود بھی مرد مومن نے ہار نہیں مانی اور اتحادی اسلامی کو شکست دیکر کر وہابیوں کو رسوائی کا راستہ دیکھا دیا ۔ بابا مزاری وہ واحد شخص تھا جس نے افغانستان کے اندر طالبان کو شکست دی اس سے پہلے افغانستان کے اندر طالبان کو کسی نے شکست نہیں دی تھی وہ بابا جس کی وجہ سے ہزارہ نام دنیا میں مشہور ہوا وہ بابا جو سادگی، انصاف اور غیرت سب چیزوں میں سب سے آگے تھے وہ بابا جس نے قوم پرستی سے زیادہ مذہب پرستی کو اہمیت دی وہ بابا جن کی نظر تمام لوگ ایک جیسے تھے وہ بابا جو حکومت کے مختلف عہدوں پر فائز رہا لیکن کسی کی دل آذری نہیں کی وہ بابا جس نے 17 سال کی عمر میں کپٹین کو مار دیا انکی غیرت انکی بہادری ہمارے لئے ایک مثال ہے اس نے ہمیشہ مذہب اور قوم دونوں کو ترجیح دی اور دوسروں کو بھی ان کو اپنانے کی تلقین کی۔

بابا مزاری کو دھوکہ دیکر 49 سال کی عمر میں تو شہادت نوش کی لیکن کبھی بھی کسی قسم کی نا انصافی برداشت نہیں کی کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا کسی کا دل اذر نہیں کیا

لیکن افسوس اور وائے ہو قوم کے موجودہ لیڈروں پر ایسے لیڈر جو پہلے سے یہ کہہ کہ آرہیں ہیں کہ مذہب کیا چیز ہے ایسے لیڈر جو مذہب پر بات کرنا گوارا سمجھتے ہیں ایسے لیڈر جو روز بے شرمی اور بے حیائی کو فروغ دیتے ہیں ایسے لیڈر جو حکومتی عہدہ سنبھالنے کے کچھ ہی عرصہ بعد ایسے بیانات دیتے ہیں جس سے ہزاروں لوگوں کی دل ازاری ہوتی ہے ایسے لیڈر جنہوں نے ہزارہ نام پر تو پارٹی بنائی بابا مزاری پر تو خوب فخر کرتے ہیں لیکن انکی نقش قدم پر چلنے والا کوئی بھی نہیں ۔

باخدا اگر شہید عبدالعلی مزاری کو خدا مہلت دیتا تو اسی دور کے لیڈران کے ساتھ بھی وہی کرتا جو ایک کیپٹن کے ساتھ کیا تھا یا انکو ویسا بناتا جیسا کہ خود لیکن افسوس صد افسوس شہید بابا کو سارے لیڈران بھول گئے ہیں ۔

عدنان حیدر

Facebook Comments